لحن خفی کرنے والے کی امامت
سوال
زید جامع مسجد شریف میں امام اور خطیب ہے نیز طرہ باز ہے۔ صافہ کے بالائی طرہ کو نکال کر رکھتا ہے۔ قرآت میں بعض آیات کو غیر معمولی طور پر بہت طول دے کر پڑھتا ہے اور اس کو وہ اپنی خوش الحانی پر محمول کرتا ہے جیسا کہ سورہ فاتحہ میں إِيَّاكَ نَعْبُدُ وَإِيَّاكَ نَسْتَعِينُ کے الف کو بہت لمبا کرتا ہے راگ کی صورت میں لے جاتا ہے۔
جواب
امام تمام نمازیوں میں ایسا ہونا چاہئے کہ جو سب سے زیادہ مسائل نماز سے واقف۔ قرآن کریم صحیح پڑھنے والا ہو متبع سنت ہو۔ اگر مسائل نماز سے واقف نہ ہو قرآن کریم غلط پڑھتا ہو، پابند سنت وشریعت نہ ہو تو ایسے شخص کو امام بنا نا مکروہ تحریمی ہے۔ صورت مسئولہ میں امام کی جو غلطی تحریر کی ہیں وہ لحن خفی کے درجہ میں ہیں جن سے نماز فاسد نہیں ہوتی خفیف کراہت پیدا ہوتی ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔