جو شخص” ق“اور” ک“کو صحیح ادا نہ کرے اس کی امامت
سوال
اگر ایک شخص حافظ ہے مگر وہ مخارج اچھی طرح ادا نہیں کر سکتا مثلا ق کی جگہ ک اور ک کی جگہ ق پڑھ جاتا ہے اور بعض جگہ ق کی جگہ ک بھی پڑھ دیتا ہے اور وہ اپنے مخارج درست کرنے کی کوشش نہیں کرتا کیا اس کے پیچھے نماز ہو جائیگی جب کہ وہ مقابر کی جگہ مکابر اور یقدر اللیل کی جگہ یکدر اللیل پڑھ جاتا ہے، مستقیم کی جگہ مستکیم، علیٰ ہذا القیاس جن سے معنی بدلنے کا خوف ہوتا ہے۔
جواب
اگر اس سے بہتر شخص امامت کے لائق قرآن کریم کو صحیح پڑھنے والا موجود ہو تو اس غلط پڑھنے والے کو امام بنانا درست نہیں اس کو علیحدہ کر کے دوسرے کو امام بنایا جائے کہ مخارج صحیح نہ ہونے کی بناء پر معنی بگڑ کر نماز فاسد ہونے کا قوی اندیشہ ہے اور اس کے ذمہ واجب ہے کہ مخارج کی تصحیح میں کوشش کرے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔