الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

غلط خواں کی امامت

سوال

ایک امام ہے وہ کبھی تو حروف کو صحیح ادا کرتا ہے اور کبھی غلطی کرتا ہے۔ تو جہری نماز میں تو پتہ لگ جاتا ہے لہذا غلطی کے موقعہ پر مقتدی اعادہ کر لیتا ہے مگر سری نماز میں پتہ نہیں لگتا تو اس کی اقتداء کرے یا نہیں؟

جواب

اگر اس کو اس طرح غلط پڑھنے کی عادت ہے تو اس کے علاوہ دوسرے کو امام بنایا جائے جو بالیقین صحیح پڑھنے کا عادی ہوں اور اس کے پیچھے جو نماز سری یا جہری پڑھی ہو تو جب تک اس میں ایسی غلطی کا علم نہ ہو جس سے نماز فاسد ہو جاتی ہے تو اس کی نماز کو صحیح کہا جائے گا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو