غلط خواں کی امامت
سوال
نماز کے اندر امام سے اگر قراءت کی اس قسم کی غلطیاں واقع ہوں کہ بجائے زیر کے زبر پڑھ جائے، یا جہاں الف ہے الف کو نہ پڑھے یا بیچ میں لفظ کے سانس توڑ دے کہ لفظ کٹ جائے جیسے میت کی یاء کے زیر کو زبر پڑھے یا فی دین اللہ میں الف نہ پڑھے۔ ابائنا میں الف نہ پڑھے بلکہ ابائن پڑھے۔ اس قسم کی غلطیاں ہونے سے نماز صحیح ہو جائیگی یا نہیں؟ اگر صحیح ہوگی تو بلا کراہت یا با کراہت، اس شخص کو امام کرنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
ان مواقع میں یہ غلطیاں کرنے سے نماز فاسد نہیں ہوئی البتہ کراہت آگئی لیکن ہر جگہ کی غلطی کا یہ حکم نہیں۔ بلکہ بعض جگہ ایسی غلطی سے نماز فاسد ہو جائیگی کیونکہ فساد نماز کا مدار معنی کی خرابی پر ہے۔ اگر صحیح طور پر قراءت کرنے والا امام متبع شریعت اور مسائل سے واقف میسر آجائے تو اس کو امام بنا لیا جائے یا کم از کم اتنی مدت کے لئے دوسرا امام رکھ لیا جائے کہ موجودہ امام قراءت کی مشق…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔