الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بے علم غلط پڑھنے والے کی امامت

سوال

ہمارے گاؤں کے امام صاحب عید الفطر کی نماز پڑھا کر بخوشی اپنے گھر چلے گئے ان کے جانے کے بعد امام کی ضرورت ہوئی گاؤں میں ایک شخص کے یہاں ایک ملا عرصہ تین ماہ سے مقیم تھا جو درزی کا پیشہ کرتا ہے۔ نام کا ملا ہے قرآن شریف و عربی غلط پڑھتا ہے یعنی کم علم ہے اس شخص کے قریبی رشتہ دار ہیں جنہوں نے آپس میں اتفاق کر کے بغیر گاؤں والوں کے مشورہ کے اس ملا کو کہا کہ تم مسجد میں بیٹھ جاؤ اور وہیں کپڑے سیا کرو۔

جواب

جو شخص قرآن غلط پڑھتا ہے جس سے کہ معنی خراب ہو جاتے ہیں اور صحیح نہیں پڑھ سکتا اس کی امامت نا جائز ہے۔ اگر یہ واقعہ صحیح ہے تو ملا مذکور کو امامت سے علیحدہ کر کے دوسرے صحیح پڑھنے والے امامت کے اہل کو امام مقرر کرنا ضروری ہے جو لوگ غلط پڑھنے والے کی امامت پر باوجود مسئلہ معلوم ہونے کے اصرار کرتے ہیں اور صحیح پڑھنے والے امامت کے اہل کے موجود ہوتے ہوئے اس کو امام نہیں بناتے وہ…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو