حمل ساقط کرانے والے کی امامت
سوال
ایک شخص نے کنواری لڑکی سے نکاح کیا بعد دو ماہ کے پتہ چلا تشخیص کرائی تو معلوم ہوا کہ منکوحہ کو پانچ چھ ماہ کا حمل حرام سے ہے تب اس حمل کو ایک ناگوار سمجھ کر قصداً ساقط کرا کر پھر دوبارہ الٹا کر نکاح کیا اب اس کے پیچھے نماز جائز ہے یا نہیں؟
جواب
صورت مسئولہ میں نکاح صحیح ہو چکا تھا۔ حمل ساقط کرا کے دوبارہ نکاح کی ضرورت نہ تھی البتہ وضع حمل سے پہلے صحبت کرنا درست نہ تھا قصداً حمل کو ساقط کرنا ایسی صورت میں سخت گناہ ہے۔ اگر باوجود علم کے ایسا کیا ہے تو توبہ کرنالازم ہے اگر توبہ نہ کرے تو اس کو امام نہ بنایا جائے۔ بشرطیکہ دوسرا شخص امامت کا اہل ہو اور یہ جب صدق دل سے توبہ کرلے تو اس کو امام بنانے میں بھی مضائقہ نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔