استاد کی شان میں بے ادبی کرنے والے کی امامت!
سوال
عالم خالد نے عباس کو عرصہ دراز تک دینی تعلیم پڑھا لکھا کر دین اسلام سے آشنا کیا، علم فقہ سے مفصل واقف کار کرایا، بعد ازیں اگر عباس مذکور اپنے پدر بزرگوار یا برادر کے کہنے پر مولوی خالد کو کسی مجلس سے برخواست کر دے زدوکوب کی دھمکی دے اور خود پیشوا بنے کیا ایسا بے ادب شاگرد امام بن سکتا ہے یا نہیں؟ (۲) جب تک عباس توبہ واستغفار نہ کرے یا تو اپنی خطا کی اپنے استاد سے معافی نہ مانگے کیا اس کے پیچھے نماز جنازہ نماز عید وغیرہ پڑھنا جائز ہے یا نہیں؟
جواب
جس استاد نے دین اسلام کی تعلیم دی اور علم فقہ سے مفصل واقف بنایا وہ بہت بڑا محسن ہے اس کا حق باپ بھائی سے زیادہ ہے۔ باپ بھائی یا کسی اور کے کہنے پر استاذ کوز دوکوب کی دھمکی دینا نہایت کمینہ حرکت ہے ایسا شخص امامت کا مستحق نہیں جب تک نالائق حرکت پر نادم ہو کر توبہ نہ کرے اور استاذ سے معافی نہ مانگ لے اس کو امام نہ بنایا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔