الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

حی علی الصلوۃ کے وقت کھڑا ہونا

سوال

کٹیہار کے اکثر مقامات پر اقامت صلاۃ کی یہ صورت رائج ہے کہ مؤذن تنہا کھڑا رہ کر اقامت صلاۃ شروع کرتا ہے اور تمام مصلی بیٹھے رہتے ہیں حی علی الصلوۃ پر امام اور مقتدی کھڑے ہوتے ہیں اور قد قامت الصلواۃ پر امام نیت باندھتا ہے اس طریقہ پر بعض جگہ اس قدر اشتداد برتا جاتا ہے کہ اگر کوئی شخص حی علی الصلوۃ سے پہلے کھڑا ہو جائے تو اسے بالجبر بیٹھا دیا جاتا ہے پس کیا اس طریقہ کو مسنون اور مطابق فقہ حنفی کہا جائے گا۔ اور کیا درجہ وجوب میں ہے کہ خلاف اس کا موجب گناہ ہو۔

جواب

عبارت مذکورہ سے معلوم ہوا کہ حی علی الفلاح یا حی علی الصلواۃ کے وقت قوم اور امام کا کھڑا ہونا صرف آداب میں ہے واجبات میں سے نہیں کہ اس کے ترک پر گناہ ہو، اور یہ بھی اس وقت ہے کہ امام مصلے پر یا اس کے قریب پہلے سے موجود ہو، اگر امام وہاں موجود نہ ہو بلکہ کسی دوسری جگہ سے سامنے آئے تو جس وقت امام پر نظر پڑے اسی وقت سب کو کھڑا ہو جانا چاہئے اگر مصلے کے سامنے نہیں ہے بلکہ مقتدیوں…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو