نماز کی اطلاع گھنٹہ کی آواز سے
سوال
جہاں اہل محلہ کو اذان کی آواز نہ آتی ہو کیا وہاں گھنٹہ سے جیسے دربان آپ کے یہاں اسباق کے لیے بجاتا ہے تثویب کرنا کیسا ہے یعنی جائز ہے یا نہیں اگر نہیں تو علامہ شامی رحمہ اللہ کے وان خالف ذلک کا کیا مطلب ہے اور اگر جائز ہے تو تشبہ با کفار ہے، مع حوالہ کتب مفصل تحریر فرما دیں۔
جواب
اگر کوئی اور صورت غیر مخدوش تثویب کی نہ ہو تو پھر اس طرح بھی درست ہے اور کیفیت دق کو ممتاز کر دیا جائے تاکہ تشبہ نہ رہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔