موروثی زمین کو رہن رکھنا
سوال
مسمی زید نے (دو قطعہ کھیت تخمیناً پانچ بیگہ پختہ جسکا منافع بصورت لگان ۴۰ ر سالانہ تخمینا ہوتا ہے (داخلی رہن رکھدیا یعنی مالک اراضی مثلاً بکر کو دوسو روپیہ دیدئے کھیتوں پر قبضہ کر لیا اس شرط پر جس وقت میرا روپیہ دوسودین ادا کر دو گے، میں کھیت چھوڑ دونگا، اور منافع خود (یعنی زید) لیتا رہونگا، اس عقد رہن پر با قاعدہ ضابطۂ عدالت گورنمنٹ پورا کیا گیا، یعنی رجسٹری وغیرہ کی گئی، مالک اراضی مسمی بکر کی ملک کاشتکارانہ تھی وہ ایک زمیندار کا مالگذار تھا، اس عقد رہن کے انعقاد کا زمانہ تخمیناً دس سال ہے کچھ دنوں سے تخمیناً…
جواب
سوال سے معلوم ہوتا ہے کہ وہ کھیت کسی اور شخص کی ملک ہے بکر کے پاس اس کی موروثی کاشت ہے اور بکر نے بعوض دو سو روپیہ قرض زید کے پاس اسے رہن رکھدیا اور زید نے دس سال تک اس کی آمدنی حاصل کی اور چار سال تک مالگذاری ۱۸ بھی ادا کی اس تمام قضیہ میں تین چیزوں کا حکم تفتیش طلب ہے، کھیت و قرض دوسو روپیه مالگذاری ۱۸ روپیه معامله فاسد در فاسد ہے، اس لئے تینوں چیزوں کا حکم لکھا جاتا ہے،…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔