انتفاع بالمرهون
سوال
(۱) روپیہ قرض دیکر زمین رہن رکھ کر استفادہ کرنا اور لگان گورنمنٹ کو خود ادا کرتے رہنا، یہ جائز ہے یا نہیں؟ (۲) بعض لوگوں کی عادت یہ ہے کہ روپیہ قرض دے کر پھر اس قرض خواہ کو زمین کھیتی کرنے کیلئے ۰٫۵ ارمن کے بدلہ لکھ دیتے ہیں، خواہ زمین میں کچھ پیداوار ہو یا نہ ہو، یہ کیسا ہے؟ (۳) بعض لوگ رہن رکھ کر استفادہ کرنے کی وجہ سے کچھ عدد سالانہ روپیہ اس سے کاٹ دیتے ہیں، یہ کیسا ہے؟
جواب
یہ صورت جائز نہیں۔ (۲) ۱۰/۵ رمن غلہ اگر صحیح حساب سے قرض میں محسوب کر لیں تو درست ہے، ورنہ نہیں، یعنی غلہ وصول کرتے وقت جو نرخ ہو اس نرخ سے قیمت لگا کر یہ سمجھیں کہ گویا ہم نے اپنے قرض میں سے اتنا وصول کر لیا۔ (۳) ایسی زمین کا جو کچھ سالانہ کرایہ بغیر کسی دباؤ کے ہوتا ہے، اگر اتنی مقدار وصول کردہ روپیہ سے کاٹ دیں تو جائز ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔