بیع ورہن کی ایک صورت
سوال
علمائے دین و مفتیان شرع متین مسائل ذیل میں کیا فرماتے ہیں: (۱) سراج الحسن صاحب مرحوم ایک زمین پر اپنا مکان تعمیر کراتے ہیں، تعمیر کے بعد اس زمین کا بیع نامہ اپنی بیوی کے نام کراتے ہیں بعد مدت طویل کے سراج الحسن صاحب کا انتقال ہوجاتا ہے، اور بیوی دو صاحبزادے اور لڑکی مسماۃ فاطمہ بیگم ان کے وارث ہوتے ہیں، بڑے صاحبزادے کی نالائقی کی بناء پر کچھ عرصہ بعد مسماۃ شفیق النساء زوجہ سراج الحسن مرحوم تن تنہا رہن رکھتی ہیں، اور فاطمہ بیگم اور عین الحسن کے دستخط بھی رہن نامہ پر کر جاتی ہیں، کچھ عرصہ کے بعد مسماۃ شفیق النساء…
جواب
جب کہ سراج الحسن مرحوم نے بیوی کے نام بیعنامہ کر دیا ہے، خواہ بیوی کی زمین میں مکان بنایا ہے، اور صرف تعمیر کا بیعنامہ کیا ہو اور زمین کی بیوی پہلے سے مالک ہو یا زمین بھی سراج الحسن کی ہو اور زمین وتعمیر ہر دو کا بیعنامہ بیوی کے نام بعوض دین مہر کیا ہو تو زوجہ اس کی تنہا مالک ہے اس کو ترکہ سراج الحسن تجویز کر کے دیگر ورثہ کا مطالبہ میراث کرنا بے محل ہے، تنہا شفیق النساء کو اس…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔