الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

مرہون سے انتفاع

سوال

اگر تیس روپئے میں گھڑی رہن رکھی تو اس گھڑی کو استعمال کر سکتے ہیں یا نہیں جب کہ آئندہ واپسی کی امید نہ ہو؟

جواب

تیس روپئے دے کر جو گھڑی رہن رکھی ہے اس کو استعمال کرنے کا حق نہیں، مالک سے معاملہ کر لیا جائے، جب وہ تیس روپیہ کے عوض یا جس نرخ پر فروخت کر دے تب خریدار کو استعمال کرنا درست ہوگا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو