کھیت کا رہن
سوال
(۱) زید نے اپنا کھیت رہن رکھا اس شرط سے کہ میں جتنی مالگذاری زمیندار کو ادا کرتا ہوں اس قدر مرتہن ادا کر دیا کرے، یا سال میں اس قدر کٹ جایا کریگا، یعنی راہن کو مرتہن ادا کر دیا کرے، جب پٹانے کے لئے روپیہ ہو جائے تو پٹانے کی صورت میں بقیہ روپیہ ادا کرلے، اور مالگذاری لے لینے کی صورت میں سب روپیہ ادا کر کے اپنا کھیت واپس لے لیوے، تو کیا صورت مذکورہ جائز ہے یا نہیں؟ اگر نا جائز ہے تو کیوں؟ جو بھی صورت ہو مدلل معہ حوالہ تحریر فرماویں؟ (۲) اگر کوئی صورت جواز کی ہو تو اس کو ضرور تحریر فرمائیں؟
جواب
یہ معلوم نہیں کہ اس کھیت کی پیداوار کس کے پاس رہے گی، راہن کے یا مرتہن کے، اگر مرتہن کے پاس رہے گی تو نا جائز ہے، لأَنَّ كُلَّ قَرْضٍ جَرَّ نَفْعاً فَهُوَ رِبو، (۲) جواز کی صورت یہ ہے کہ مالگذاری حسب دستور راہن کے ذمہ رہے اور پیداوار جو کچھ ہو وہ مرتہن اپنے پاس محفوظ رکھے، پھر راہن قرض ادا کرے، اور کھیت مع پیداوار مرتہن سے وصول کرلے یا مرتہن اس کھیت کو بطور اجارہ راہن سے لیلے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔