الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

رہن پر نفع

سوال

اگر کسی نے کوئی چیز سو روپے کی زید کو دیکر زید سے پچاس روپے اس شرط پر لئے ہیں کہ اگر ایک سال کے اندر اندر پچاس روپے نہ لوٹائے تو وہ سو روپے کی چیز زید کے لئے ہو جائیگی، یا ایسا کہیں کہ ایک سال کیلئے گروی رکھا، تو اب سال ختم ہو جاتا ہے لیکن روپیہ واپس نہیں کیا تو کیا کرنا پڑے گا، اور صاحب مقروض کو اتنی ہمت نہیں جس سے وہ پچاس روپیہ ادا کر کے اپنی چیز لے؟

جواب

اس طرح تو یہ معاملہ درست نہیں ہوا، اب جبکہ قرض واپس کرنے کا وقت آیا اور اس کے پاس روپیہ دینے کو نہیں ہے تو اب معاملہ کرلے کہ ہماری فلاں چیز جو آپ کے پاس ہے اس کی قیمت یہ ہے، آپ کا قرض اتنا ہے، وہ چیز آپ خرید لیں تا کہ آپ کا قرض ادا ہو جائے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو