الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

زمین رہن پر دینے کی صورت

سوال

ایک شخص اپنی زمین کسی کے پاس بالعوض سو روپیہ یا دوسو روپیہ رکھتا ہے، اس شرط پر کہ میں زمین تمہارے قبضہ میں دیتا ہوں اور جو کچھ پیداوار ہو گی تم کھاؤ پیو، اور سالانہ جو کچھ پیداوار ہوگی اس کے عوض دس روپیہ سالا نہ سوروپیہ میں اور دوسو روپیہ میں بیس روپیہ سالانہ مجرا کر لینا، گویا میں نقد روپیہ نہیں دونگا، گویا دس سال کو میں نے زمین تم کو دیدی اس کے بعد زمین میری ہوگی، خواہ زمین میں کچھ پیدا ہو یا نہ ہو میں ذمہ دار نہیں؟

جواب

یہ دونوں صورتیں نا جائز ہیں، کیونکہ یہ رہن کی صورتیں ہیں اور رہن میں راہن کو یا مرتہن کو انتفاع کا حق نہیں ہوتا، کما ہو مصرح فی کتب الفقہ، جواز کی صورت یہ ہے کہ زمین اجارہ پر دیدی جائے، اور مدت اجارہ متعین کر کے جس قدر روپیہ کی ضرورت ہے بطور اجرت پیشگی وصول کیا جاوے، اور اس مدت تک وہ شخص کھیتی وغیرہ کر کے زمین سے نفع حاصل کر کے پھر واپس کردے، ليس للمرتهن الانتفاع بالرهن ا مرأة…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو