رہن کی واپسی ورثاء راہن کیلئے
سوال
زید نے اپنا مکان بعوض تین سو روپے پانچ سال تک کی مدت کے لئے بعوض تین سو روپیہ ماہوار خالد کو رہن رکھ دیا اور اس رہن نامہ کے اندر تحریر ہے کہ اگر اس مدت مقررہ میں رقم ادا نہ ہوئی تو رہن نامہ کو بیع نامہ تصور کیا جائے، اگر جواب نفی میں ہے تو ورثاء شرعی زید کے فوت ہونے پر مکان بیچ کرنا چاہیں تو کیا بیچ کا حق ہوگا؟
جواب
یہ رہن ہے بیچ نہیں نہ رہن رکھتے وقت نہ پانچ سال گزرنے پر زید قرض واپس کر دے اور اپنا مکان لے لے چاہے فروخت کر دے، قرض جتنا لیا ہے، اسی قدر واپسی ہوگی زیادہ کی نہیں زید کے بعد اس کے ورثاء کو بھی اس کا حق حاصل ہو گا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔