الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

انتفاع بالمرهون

سوال

مرتہنہ زمین سے نفع حاصل کرنا جائز ہے یا نہیں، اسی طرح رہن رکھے ہوئے باغ کے پھل وغیرہ جو فصل میں پیدا ہوتے ہیں جس کے پاس رہن رکھا ہوا ہے، استعمال کر سکتا ہے یا نہیں؟

جواب

جس کے پاس جوشئی رہن رکھی جائے، اس کو اس شئی سے نفع حاصل کرنا منع ہے، کیونکہ یہ سود کے حکم میں ہے، خواہ وہ شئی زمین ہو یا باغ ہو یا مکان وغیرہ ہو سب کا حکم یکساں ہے، ” قال الحصکفي بعد نقل الاقوال ثم نقل عن التهذيب انه يكره للمرتهن ان ينتفع بالرهن وان اذن له الراهن قال المصنف وعليه يحمل ما نقل عن محمد بن اسلم من انه لا يحل للمرتهن ذٰلک ولو بالاذن لانه ربوٰ قلت تعليله يفيدانها…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو