ضمان مرہون میں کونسی قیمت معتبر ہوگی اور امانت کو رہن رکھنا
سوال
زید کی بیوی کو طلاق ہوئی، زید کے سالے کو لڑکے کے والد نے کچھ قرضہ اپنی معرفت سے دلوایا تھا، انہوں نے کہا یہ روپیہ ادا کرو تو فیصلہ ہوگا، اس کے بعد یہ بات قرار پائی کہ اس کے عوض میں کچھ زیور کسی کے پاس جمع کر دیا جائے، روپیہ ادا ہونے پر زیور واپس لے لیا جاوے گا، لہذا ایک پان طلائی ایک تولہ، ایک گلو بند طلائی، دونوں چیزیں ایک صاحب کے پاس جمع کر دیں گئیں، تقریباً تین سال کے بعد وہ روپیہ زید کے سالے نے ادا کر دیا، اسی دوران جن صاحب کے پاس وہ امانت رکھی تھی، کچھ پریشانیاں آئیں، اور انہوں نے اپنے زیور کے ساتھ امانت کی…
جواب
جس وقت روپیہ رہن کا معاملہ ختم کیا جا رہا ہے، اس وقت کی قیمت کا اعتبار ہوگا، امانت دار کو حق نہیں تھا کہ وہ امانت کو اپنی ضرورت کے لئے رہن رکھدے، ایسی صورت میں اس کے ذمہ ضمان لازم ہے، اگر زیور ڈوب گیا اور رہن میں ختم کر دیا گیا تو اسکی موجودہ قیمت لازم ہوگی، امانتدار موجودہ قیمت دیکر بری الذمہ ہو جائیگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔