الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شیخ سعدی کے ایک شعر کا مطلب

سوال

مولانا سعدی نے فرمایا: پرتو نیکاں نگیرد ہر کہ بنیادش بدست تربیت نا اہل را چوگردگان بر گنبدست بنیاد سے کیا مراد ہے؟ اور نا اہل کون ہے؟ وَأَمَّا الَّذِينَ شَقُوا فَفِي النَّارِ “ اور حدیث میں شقی سے جو مراد ہے، کیا وہی نا اہل ہے یا کچھ اور مطلب ہے۔

جواب

حدیث شریف میں ہے ” وَاضِعُ الْعِلْمِ عِنْدَ غَيْرِ أَهْلِهِ كَمُقَلِدِ الْخَنَازِيرِ الْجَوْهَرَ وَاللُّؤْلُؤَ وَالذَّهَبَ نا اہل کو علم سکھانا ایسا ہے جیسا کہ خنزیر (سور) کو جواہر موتی سونے کا ہار پہنانا، اس کی شرح میں ملا علی قاری نے لکھا ہے کہ نا اہل وہ ہے جو بات صحیح نہ سمجھے یا دینی علم کو دنیا کمانے کے لئے حاصل کرے، یا کسی بھی ایسی غرض کے لئے پڑھے جو خوشنودی خداوندی کے…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو