الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

دمدار ستاره

سوال

آج کل یہاں پر شب کے تین بجے دمدار ستارہ نمودار ہوتا ہے یہ ستارہ پہلے شمال کی جانب نکلتا تھا اب مشرق کی جانب نکلتا ہے اس بارے میں عوام میں بہت سی باتیں مشہور ہو رہی ہیں براہ کرم واضح فرمادیں کہ ایسے ستاروں کے بارے میں شرعا کوئی چیز ثابت ہے یا نہیں؟ اور اس ستارہ کی شرعی پوزیشن کیا ہیں نیز اس بارے میں عوام کے قیاسات پر یقین کیا جا سکتا ہے یا نہیں اگر یقین کیا جا سکتا ہے تو کس حد تک براہ کرم بالتفصیل جواب سے مطلع فرمائیں۔

جواب

الاشاعة لاشراط الساعة میں ص ۱۵۷ پر حضرت ابن عباس کی حدیث بحوالہ ابن مردویہ منقول ہے کہ جب فلاں فلاں کام ہونے لگیں تو دمدار ستارہ طلوع ہو گا۔ اس کا حاصل یہ ہے کہ عبادات میں اخلاص نہ رہے معاصی کی شدت ہو جائے حدود اللہ قائم نہ کی جائیں تو اس وقت اس قسم کی نشانیاں ظاہر ہوتی ہیں جن کا مقصد مخلوق کو خداوند تعالیٰ کی طرف اطاعت کی طرف متوجہ کرنا ہے تا کہ معاصی کم ہوں لوگ اخلاص پیدا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو