حضرت موسیٰ علیہ السلام نے چپت مار کر ملک الموت کی آنکھ نکال لی
سوال
اورنگ آباد کے امیر جماعت نے دوران وعظ ایک واقعہ بیان فرمایا اس کی تصدیق آپ سے چاہتا ہوں کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس روح قبض کرنے کے لئے ملک الموت تشریف لائے، تو آپ نے طمانچہ مار دیا وہ چلے گئے، اللہ پاک نے ارشاد فرمایا کہ میرے کلیم سے اجازت کیوں نہیں لی، امیر جماعت سے میں نے پوچھا کہ کیا یہ بات صحیح ہے، انہوں نے جواباً فرمایا کہ میں نے معتمد بزرگوں کی زبان سے سنا ہے اس لئے بیان کر دیا، اس پر میں خاموش ہو گیا، سوال طلب امر یہ ہے کہ مذکورہ بالا واقعہ صحیح ہے؟
جواب
بخاری شریف مسلم شریف اور نسائی شریف میں روایت موجود ہے، کہ حضرت موسیٰ علیہ السلام کے پاس ملک الموت آئے (بشکل انسانی جان نکالنے کے لئے انہوں نے طمانچہ مار دیا، جس سے آنکھ نکل پڑی، وہ اللہ پاک کے پاس پہنچے اور کہا آپ نے ایسے انسان کے پاس مجھے بھیج دیا، جو موت نہیں چاہتا، وہاں سے ارشاد ہوا کہ تم جا کر پیام پہنچاؤ کہ بیل کی کمر پر ہاتھ رکھ دو جتنے بال ہاتھ کے نیچے آئیں گے ہر بال…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔