لاطاعة في المعصية كي تركيب نحوى
سوال
گذارش ہے کہ حدیث کی عبارت لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق میں بحث ہے امیر اللہ وظفیر کا کہنا ہے کہ اس میں لا طاعة فعل ماضی منفی ہے باب تفاعل سے اور لمخلوق مفعول ہے لا طاعہ کا۔ اور دلیل یہ ہے کہ ۂ اسم پر داخل نہیں ہوتا۔ لیکن زین العابدین کا کہنا ہے کہ اس میں لا مشابہ بلیس ہے اور اسم مصدر ہے۔ لہذا آپ فیصلہ فرمائیں کہ کس فریق کی بات صحیح ہے؟
جواب
حدیث شریف کے الفاظ تو یہ ہیں لا طاعة لمخلوق في المعصية. اس میں لائے نفی جنس ہے، لا مشبہ بلیس نہیں ورنہ اس کا اسم مرفوع ہوتا ہے جیسے اور لا طاعة کو باب تفاعل سے ماضی منفی کہنا تو بالکل صریح البطلان ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔