فضائل میں ضعیف روایت پر عمل
سوال
ہمارے یہاں گذشتہ سال پندرہویں شعبان کا روزہ نہیں رکھا گیا اور کہا گیا کہ یہ روزہ کسی صحیح حدیث سے ثابت نہیں ہے، کیا یہ صحیح ہے؟ علاوہ ازیں اس روزہ کو بدعت قرار دیتے ہیں۔ کیا فضائل میں ضعیف حدیثوں کا اعتبار ہے یا نہیں؟
جواب
عَنْ عَلِيٌّ قَالَ قَالَ رَسُولُ اللهُ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ إِذَا كَانَتْ لَيْلَةُ النِّصْفِ مِنْ شَعْبَانَ فَقُومُوا لَيْلَهَا وَصُومُويَوْمَهَا فَإِنَّ اللَّهَ تَعَالَى يَنزِلُ فِيهَا لِغُرُوبِ الشَّمْسِ إِلَى السَّمَاءِ الدُّنْيَا فَيَقُولُ الامِنُ مُسْتَغْفِرٍ فَاغْفِرُ لَهُ أَلَا مُسْتَرْزِقٌ فَارْزُقَهُ الامُبْتَلَى فَاعَافِيهِ الا كذا الا كذا حتى يَطْلُعَ…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔