الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تحقیق ضاد

سوال

اکثر لوگ حرف ضاد کو دال پر یا ظاہر کی آواز پڑھتے ہیں اور بعض حفاظ وجہلاء کہتے ہیں کہ اسی طرح سے پڑھنا چاہیے۔ عربی میں دواد ہی پڑھا جاتا ہے اور اردو میں ضاد پڑھا جاتا ہے مگر جب دواد کا ثبوت کسی معتبر کتاب کا ان سے مانگا جاتا ہے تو چپ ہو جاتے ہیں اور کچھ جواب نہیں دیتے حالانکہ تجوید کی کتاب میں لکھا ہے کہ ضاد کو اس کے مخرج سے یعنی حافۂ لسان اور متصل کی داڑھوں سے نکالنا چاہیے خواہ بائیں جانب یا دائیں جانب سے اور بندہ اسی طرح ادا کرتا ہے گو کہ بندہ عالم یا قاری نہیں ہے اور نہ حافظ ہے مگر علماء دین کے تصدق میں تجوید سے…

جواب

ضاد، ظاء، دال، تینوں علیحدہ علیحدہ مستقل حروف ہیں۔ ضاد اور ظاء اکثر صفات میں شریک ہونے کی وجہ سے مشابہ ہیں تاہم دونوں کا مخرج علیحدہ ہے اور ضاد میں صفت استطالت زائد ہے جو ظاء میں نہیں ومنهم من يجعلها ظاء الخ هذاليس بعجيب لثبوت التشابه وعسر التميز بينهما فانه يشارك ظاء في صفاتها كلها ويزيد عليها باستطالة فلولا اختلاف المخرجين والاستطالة في الضادلكانت ظاء اه جهد المقل ملا علی…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو