الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بغیر تجوید کے قرآن کریم پڑھنا

سوال

(۱) قرآن شریف پڑھنے کا کیا طریقہ ہے ادنیٰ سے ادنی طریقہ کیسے پڑھنا چاہئے؟ (۲) مثلاً تراویح میں حافظ صاحب قرآن شریف سناتے ہیں اور ایسی جلدی پڑھتے ہیں کہ حروف مد (واو، الف، یا) کو جتنا کھینچنا چاہئے تھا نہیں کھینچا مثلاً فی قولہ تعالیٰ لو انزلنا کی جگہ لو انزلن الف کو نہیں کھینچا۔ اگر پڑھنے والا قرآن شریف کے معنی جاننے والا ہے تو کیا ہوگا؟ اور مقتدی عالم کا کیا حکم ہوگا اور مقتدی امی کا کیا حکم ہوگا؟ اور اگر پڑھنے والا قرآن شریف کا جاننے والا نہیں ہے۔ صرف حافظ قرآن ہے تو پھر عالم مقتدی اور امی کا کیا حکم ہوگا؟

جواب

قرآن پاک کو تجوید و ترتیل سے پڑھنا چاہیے۔ قصداً تجوید و ترتیل کو ترک کرنا درست نہیں۔ والاخذ بالتجويد حتم لازم، من لم يجود القرآن آثم ليكن عام لوگ تجوید حاصل نہیں کرتے علوم سے ناواقف ہیں اس غلبہ جہل کی بنا پر فقہاء نے جواز نماز میں توسع سے کام لیا ہے۔ جو اہل علم ہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو