کیا ہر آیت پر وقف کیا جائے
سوال
قرآن کریم میں جو گول آیت ۰۰ جگہ جگہ بنی ہوتی ہے اس گول آیت پر کسی جگہ الف کسی جگہ میم، کسی پر جیم، کسی پر صل، تو اس صورت میں جس جگہ دل چاہے ٹھہر جائے اور جس جگہ دل نہ چاہے نہ ٹھہرے جیسے ج، زید کا فرمانا ہے کہ ہر گول آیت پر ٹھہرنا ضروری ہے کیونکہ ان گول آیتوں میں ترمیم نہیں ہوتی۔ یہ بجنسہ وحی کے ساتھ نازل ہوئی ہیں اور جس کو حضرت عثمان نے بجنسہ ترتیب دیا ہے اور بجنسہ ایسے ہی نازل ہوئیں۔ کیا ہر گول آیت پر ٹھہرے یا جہاں جیسی علامت حروف کی ہو ویسا عمل کرے جیسے ط، ج ص، ق، ل، وہم، وغیرہ۔
جواب
فقہاء کے نزدیک ان میں سے کسی مقام پر ٹھہرنا واجب نہیں یہ قراء کی اصطلاحات ہیں ان کی رعایت محض مستحب ہے۔ واجب نہیں۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔