الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نا جائز مال جہیز میں دینا

سوال

کوئی شخص جو کسی زمانہ میں ڈاکٹر تھا اس نے ملازمت سے ریٹائر ہونے کے بعد کچھ جائیداد خرید لی جس میں کچھ زمین کاشت کے لئے اور ایک باغ ہے اور اپنا ذاتی روپیہ کچھ بنک میں جمع ہے اور باقی روپیہ سے عام لوگوں سے سود لیتا ہے اور اس کی لڑکی سے ایک شخص کا نکاح ہوا ہے اور وہ شخص جو کہ اب نیک پرہیز گار اور متقی ہے تو اس کے لئے اپنی زوجہ کے جہیز میں کچھ ایسی چیزیں دی ہیں جو ہر شخص استعمال کر سکتا ہے تو اب آپ تحریر کریں کہ اس لڑکی کا گھر میں رکھنا اور اس کے مال وجہیز کو استعمال کرنا کیسا ہے؟

جواب

کوئی اور مانع شرعی موجود نہ ہو تو صورت مسئولہ میں اس لڑکی کو نکاح میں رکھنا جائز ہے۔ مال میں تفصیل ہے وہ یہ کہ اگر معلوم ہو جائے کہ یہ مال ڈاکٹر نے جائز طریق ملازمت وغیرہ سے حاصل کر کے لڑکی کو دیا ہے تب تو لڑکی کی اجازت کے بعد شوہر کو اس کا استعمال جائز ہے۔ اگر یقیناً معلوم ہو کہ یہ مال ناجائز طریق مثلاً مسلمانوں سے سود لے کر کے حاصل کیا ہے تو اس کا استعمال نا جائز ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو