نکاح پر مال کا مطالبہ
سوال
ہمارے یہاں یہ رسم ورواج ہے کہ شادی کے وقت لڑکا یا لڑکے کا ولی لڑکی والے سے کثیر مقدار میں رقم اور مال اور اسباب وصول کرتا ہے تب شادی کرتا ہے۔ اگر طے شدہ رقم ومال واسباب سے کچھ کم ملتا ہے تو شادی لڑکے والا نہیں کرتا۔ اس طرح سے لڑکی والا کافی حیران وپریشان رہتا ہے، اسے کفو ہی نہیں ملتا ہے۔ اگر ملتا بھی ہے تو لڑکے والے کی مانگ ومطالبہ پورا نہ کرنے کی بنا پر بالغ لڑکی گھر پر پڑی رہتی ہے۔
جواب
اگر مہر کثیر مقدار میں تجویز ہو تو اس کے موافق جہیز کا مطالبہ بھی درست ہو سکتا ہے۔ یہ بھی اس وقت ہے جب کہ نکاح کر دیا گیا ہو اور رخصت کرنے میں پس وپیش ہو ورنہ محض نکاح کو اتنا روپیہ واسباب دینے پر موقوف کرنا اور شرط لگانا شبہ پیدا کرتا ہے کہ اصل مقصود مال واسباب ہے نہ کہ عقد نکاح اور عقد نکاح کو اس مال واسباب کی تحصیل کا ذریعہ بنایا جارہا ہے یہ طریقہ تعلیمات اسلام کے خلاف ہے…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔