نکاح کرانے میں سفر خرچ لڑکے سے لینا شرعاً کیسا ہے؟
سوال
صوبہ بہار میں لڑکوں کی بہ نسبت لڑکیوں کی کثرت ہے۔ لڑکی بالغ ہے لیکن لڑکا ملنا دشوار ہے۔ ہمارے یہاں سے ایک شخص ایسے آدمیوں کے لے جاتا ہے جو کافی عمر رسیدہ ہونے پر بھی شادی کی خوشی سے محروم ہیں اور ان کو ادھر سے شادی کرا کر لے آتا ہے۔ لڑکی والے اتنی خستہ حالت میں ہیں کہ وہ شادی کا خرچہ لڑکے والے سے ہی لے کر کرتے ہیں اور بیچ میں ثالث جو کہ لڑکے والوں کے ساتھ ان کو لے کر جاتا ہے، وہ اپنا کاروبار چھوڑتا ہے۔ کم از کم پندرہ یوم وہاں پر رہتا ہے۔ وہ اپنا خرچہ طے کر لیتا ہے۔
جواب
سفر خرچ لینا درست ہے جب کہ اس کے لئے سفر کیا ہو۔ غیر کفوء میں ولی کی اجازت سے نکاح درست ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔