الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

شادی میں بری کس کی ملک ہے

سوال

بوقت نکاح لڑکی کے والدین جو زیور وغیرہ دیتے ہیں وہ تو جہیز کہلاتا ہے اور منکوحہ کی ملکیت سمجھا جاتا ہے شرعاً وعرفاً لیکن اس موقع پر شوہر کی طرف سے جو کپڑے زیور وغیرہ دیئے جاتے ہیں جس کو اردو میں بری کہتے ہیں فقہاء اس کو کس لفظ سے تعبیر فرماتے ہیں اور بعد نکاح یہ بری کی اشیاء کس کی ملکیت میں محسوب ہوتی ہیں آیا بطور ہبہ کے عورت کی ملکیت میں آجاتی ہے یا شوہر کی ملکیت رہتی ہیں اور عورت کے پاس بطور عاریت کے رہتی ہیں تفریق بموت یا طلاق کی صورت میں ان کا مستحق کون ہے براہ نوازش ماخذ جواب کی عبارت مع حوالہ کتب وصفحہ ارقام…

جواب

اس میں بھی عرف پر مدار ہے اگر دیتے وقت کوئی تصریح نہ ہو تو عرف پر مدار ہے۔ یوپی میں عرف خاندانوں کے اعتبار سے مختلف ہے ہمارے خاندان میں جہیز اور بری سب کچھ لڑکی کا ہی شمار ہوتا ہے تفریق بموت زوجہ کی صورت میں شوہر مالک نہیں ہوتا۔ الا بقدر الارث اور طلاق کی صورت میں کلیہ زوجہ بدستور مالک رہتی ہے۔ بعض خاندانوں میں شوہر بری واپس لے لیتا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو