الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

قادیانی کی وکالت سے نکاح

سوال

ایک شخص اہل سنت والجماعت میں سے ہے، اس نے اپنی لڑکی کا نکاح بھی اہل سنت والجماعت میں کیا۔ لیکن اپنی لڑکی کے نکاح کا وکیل ایک قادیانی کو بنا دیا۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اس قادیانی کی وکالت بالنکاح صحیح ہے یا نہیں؟ بصورت ثانی نکاح درست ہے یا نہیں؟

جواب

اگر لڑ کی نابالغہ تھی اور مجلس عقد میں اس کا باپ موجود ہے، اس کی موجودگی میں قادیانی نے ایجاب وقبول کرایا تو عاقد باپ ہی کو قرار دیا جائے گا اور قادیانی کی وکالت بیکار ہے اور نکاح صحیح ہو گیا اور اگر لڑکی بالغہ تھی اور لڑکی کی رضا مندی سے عقد کرایا تو بھی نکاح ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو