الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح فضولی یمین طلاق کی صورت میں

سوال

زید نے ایک آدمی کو مندرجہ ذیل قسم کھانے پر مجبور کیا کہ میں نے قسم کھائی کہ میں جب بھی شادی کروں تو میری عورت پر طلاق ہوگی اس کے بعد زید نے وہ کام کرلیا۔ چند سال بعد اس نے شادی کر لی اور ایک بچہ بھی پیدا ہو گیا اب ایک شخص کے یاد دلانے پر اسے اپنی قسم یاد آئی جب سے شادی کی ہے اب تک اسے قسم یاد نہیں آئی تھی اب وہ کیا کرے (۱) عورت پر طلاق ہوئی یا نہیں؟ (۲) بچہ کے متعلق کیا حکم ہے؟ (۳) پھر سے اس کے ساتھ زندگی گزارنے کی کیا صورت ہے؟ (۴) اس کے ساتھ اب تک جو میاں بیوی کے تعلقات رکھے اس میں گناہ ہوا یا نہیں؟ (۵)

جواب

(۱) طلاق ہوگئی (۲) شبہۃ العقد کی وجہ سے بچہ ثابت النسب ہے (۳) کوئی فضولی اس کا نکاح کر دے اور یہ خاموش رہے۔ زبان سے قبول نہ کرے بلکہ فعل سے اجازت دیدے۔ مثلاً اس طرح کہ اس کی عدم موجودگی میں فضولی گواہوں کے سامنے اس عورت سے ایجاب وقبول کرلے۔ پھر اس (قسم کھانے والے) سے کہے کہ فلاں عورت کے ساتھ میں نے تمہارا عقد کر دیا ہے اور اتنی رقم مہر معجل مثلاً بیس روپے مقرر کر دیا ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو