الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی کا لڑکے کو وکیل نکاح بنانا

سوال

(۱) ہندہ زید کو جو کہ عاقلہ بالغہ ہے۔ یہ الفاظ کہتی ہے۔ کہ میں مسماۃ فلانی بعمر ۱۶ سال بالغہ تم مسمی فلاں کو اجازت اپنی رضا وخوشی سے دیتی ہوں کہ رو برو گواہان میرا نکاح اپنے ساتھ کرلو۔ زید نے بعینہ یہی الفاظ کاغذ پر تحریر کئے ہندہ نے جو کہ کتب بہشتی زیور وغیرہ کی تعلیم یافتہ ہے۔ پڑھ کر دستخط کر دیئے اور ایک پرچہ میں زید نے یہ الفاظ تحریر کئے کہ مسماۃ فلانی دختر فلاں سکنہ فلاں کیا تم کو منظور ہے کہ میں مسمی فلاں بن فلاں سکنہ فلاں تیرا نکاح بعوض اتنے روپیہ مہر پر اپنے ساتھ رو برو گواہاں کرلوں۔

جواب

(۱) یہ نکاح شرعا صحیح ہو گا بشرطیکہ زید ہندہ کا کفو ہو اور نکاح مہر مثل پر ہوا ہو۔ (۲) جب شرعی گواہ موجود ہیں کہ ہندہ نے ہمارے سامنے رجسٹر نکاح خوانی پر دستخط کئے اور اس نکاح پر رضا مندی ظاہر کر دی تو اب اس کا انکار شرعاً معتبر نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو