الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

تو کیل نکاح کے لئے شہادت ضروری نہیں

سوال

کسی اجتماع میں ایک لڑکی کا ولی آکر مقرر سے کہتا ہے کہ میری لڑکی کا نکاح اس شخص سے اتنے مہر پر کر دیجئے۔ سینکڑوں ہزاروں کے مجمع میں واعظ صاحب لڑکے سے خطبہ مسنونہ کے بعد کہتے ہیں بآواز بلند فلانہ بنت فلاں کا نکاح میں نے تم سے پانچ ہزار مہر پر کیا۔ تم نے اس کو اپنے نکاح میں قبول کیا۔ لڑکا اقرار کرتا ہے کہ میں نے اس کو اپنے نکاح میں قبول کیا۔ ہزاروں کا مجمع اس ایجاب وقبول کو سنتا ہے۔ کیا اس قدر ایجاب وقبول کافی ہے اور بغیر کراہت کے جائز ہے۔

جواب

اگر ولی نے لڑکی سے بالغہ ہونے کی حالت میں نکاح کی اجازت لی ہے اور اس نے اجازت دیدی یا سکوت کیا۔ پھر ولی نے ایجاب وقبول کے لئے اپنی طرف سے مقرر صاحب کو وکیل بنا دیا اور وکیل نے ایجاب وقبول کر ادیا جس کے گواہ موجود ہیں تو یہ نکاح درست ہو گیا۔ اگر ولی نے پہلے اجازت نہیں لی اور نکاح کے بعد لڑکی کو خبر کر دی لڑکی نے اس کو نا منظور نہیں کیا تب بھی نکاح صحیح ہو گیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو