الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

توکیل واجازت نکاح کے بعد دستخط سے مکر جانا / اجازت ودستخط کے بعد انکار

سوال

ایک عاقلہ بالغہ عورت اپنے ایک رشتہ دار کو جس کو وہ چچا کہتی ہے کہ چاجی میرا نکاح فلاں سے کرادو کیونکہ والدین کی طرف سے اس کے ساتھ میری نسبت کی ہوئی ہے اب غیر جگہ جہاں میں منظور نہیں کرتی بطمع زر کرنا چاہتے ہیں اس گفتگو کے تقریباً ۴-۳۰ گھنٹہ بعد مسماۃ کے منسوب جس کے ساتھ وہ جہاں نکاح رکھتی ہے وہ اس کے پاس جاتا ہے اور اس حالت میں کہ وہ دونوں ہیں اور کوئی نہیں مسماۃ اس کو کہتی ہے کہ میں بخوشی اجازت دیتی ہوں کہ روبرو دو گواہوں کے نکاح کر لو اور یہی الفاظ مرد تحریر کرتا ہے اور عورت دستخط کر دیتی ہے اور ایک پرچہ پر…

جواب

صورت مسئولہ میں جب کہ مسماۃ نے دو گواہوں کے سامنے اجازت ورضا مندی کا اقرار کیا اور رجسٹر نکاح خوانی پر خود دستخط کئے ہیں تو شرعاً نکاح صحیح ہو گیا۔ اب انکار سے کچھ نہیں ہوتا ہے البتہ وہ گواہ عادل نہ ہوں اور شرعاً مردود الشہادۃ ہوں تو ان کی گواہی سے قضاء نکاح کا ثبوت نہیں ہوگا اور مسماۃ کا انکار اس وقت معتبر ہوگا

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو