الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

نکاح میں شخص واحد کا اصیل اور وکیل ہونا

سوال

رشید کی عمر ۵۰ سال اور انیسن خاتون بیوہ کی عمر تقریباً ۴۵ سال ہے شوہر کے انتقال کو تقریباً ۲۰ سال ہو گئے۔ رشید نے انیسن سے نکاح کرنے کو کہا وہ راضی ہوگئی اور کہا کہ نکاح تم کر لو۔ زید نے نکاح پڑھایا۔ نکاح پڑھانے والا اور وکیل نمازی نہیں۔ عمر بحیثیت گواہ ہے وہ بھی نمازی نہیں۔ نکاح انیسن کی عدم موجودگی میں ہوا۔ بعد میں رشید نے انیسن سے کہا کہ تمہارے کہنے کے مطابق ہم نے نکاح کر لیا ہے اور انیسن نے بھی قبول کر لیا تو کیا یہ نکاح جائز ہوا؟ کیا اس کو بیع فضولی پر قیاس کر سکتے ہیں؟

جواب

جب کہ انیسن نے رشید کو نکاح کی اجازت دیدی کہ تم نکاح کر لو تو رشید اسکی طرف سے وکیل اور اپنی طرف سے اصیل ہو گیا، زید اور عمر دونوں گواہ ہو گئے، جب رشید نے ان دونوں کے سامنے انیسن کو قبول کر لیا تو یہ نکاح منعقد ہو گیا، نفس تو کیل بھی کافی تھی، نکاح میں شخص واحد اصیل اور وکیل ہو سکتا ہے، پھر انیسن نے اسکی تنفیذ بھی کر دی تو بالکل ہی بلا تردد لازم ونافذ ہوگیا۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو