الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

کیا قادیانی نکاح کا وکیل ہو سکتا ہے؟

سوال

ہمارے اطراف میں نکاح کی مجلس اس طرح منعقد ہوتی ہے کہ لڑکی کا باپ یا چچا نانا وغیرہ میں سے کوئی ایک دو گواہوں کو لیکر لڑکی کے پاس جاتا ہے اور لڑکی سے یوں کہتا ہے کہ میں تمہارا وکیل بن کر فلاں کا لڑکا فلاں سے مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں کے رو برو نکاح کر دوں۔ جب لڑکی ہاں کہدیتی ہے تو یہ وکیل اور دونوں گواہ مجلس میں آتے ہیں بعدہ محلہ کا پیش امام خطبہ نکاح پڑھتا ہے اور وکیل سے کہتا ہے یوں کہو میں نے اپنی وکالت سے فلاں کی لڑکی فلانہ کو مبلغ اتنے مہر میں ان دو گواہوں اور حاضرین مجلس کے سامنے تمہارے عقد میں دیا تم نے…

جواب

ولی اور وکیل میں فرق ہے نکاح میں وکیل کا کام صرف الفاظ کی تعبیر تک رہتا ہے اصل ایجاب وقبول زوجین کا ہوتا ہے بیان کردہ صورت میں نکاح منعقد ہو گیا، قادیانی کی وکالت بیکار گئی۔ اگر لڑکی کی طرف سے اصالہ یا وکالہ یا دلالۂ کسی کا ایجاب نہ بھی تسلیم کیا جاوے تب بھی اس نکاح پر لڑکی کا راضی ہونا اور اس کے لوازمات کو بجالانا یہ اجازت فعلی ہے جو کہ شرعاً معتبر ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو