سکران کی طرف سے اجازت نکاح
سوال
زید ایک شرابی کبابی آدمی تھا۔ اس کے یہاں کچھ مساکین کو کھلانے کی تقریب میں کافی چہل پہل تھی۔ اس میں زید کے بھائی عمر نے زید کو بہلا پھسلا کر الگ تھلگ لے جا کر شراب پلائی۔ پھر عمر کے چند ساتھی اس جگہ آئے اور ایک پڑھے لکھے شخص کو لے کر آئے۔ زید پی کر مست تھا تو زید سے زید کی نابالغہ لڑکی ہندہ کے نکاح کی اجازت اپنے لڑکے بکر سے مانگی۔ زید نے اجازت دی یا نہیں دی بلکہ یوں ہی ہو گیا۔ ہو گیا کہا واللہ اعلم، اس جگہ جہاں عمر کے چند ساتھی آئے تھے نکاح پڑھا دیا گیا۔
جواب
اگر شراب کے نشہ میں لڑکی کے باپ سے اجازت لی اور نکاح پڑھا دیا گیا تو اس سے شرعاً وہ نکاح لازم نہیں ہوا بلکہ اگر لڑ کی بالغہ ہے تو یہ نکاح شرعاً اس کی اجازت پر موقوف ہے معلوم ہونے پر لڑکی نے اس کو نا منظور کر دیا تو وہ جب ہی ختم ہو گیا ہے اگر لڑکی نابالغہ ہے تو یہ نکاح اس کے ولی (باپ) کی اجازت پر موقوف ہے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔