خیار بلوغ
سوال
جہاں پر حکومت غیر مسلم ہوا اور شرعی با اختیار قاضی کی جگہ غیر مسلم اور غیر شرعی حاکم ہو تو حالت موجودہ میں کیا صورت ہوگی، یعنی زید کا نکاح بزمانہ نابالغی ایک نابالغہ لڑکی کے ساتھ اس لڑکی کے بھائی نے باپ کے انتقال کے بعد کر دیا۔ لڑکی نے بوقت بلوغ اس نکاح سے بیزاری کا اعلان کر دیا اور اسکی اطلاع شوہر اور اس کے والدین کو کر دی گئی لڑکی اس نکاح سے کسی صورت میں رضامند نہیں وہ بموجب استحقاق شرع شریف عقد دوسری جگہ کرنا چاہتی ہے لہذا اس بارے میں کیا صورت ہوگی؟
جواب
اگر لڑکی نے فوراً بوقت بلوغ اس نکاح سے ناراضی ظاہر کر دی اور شوہر کے یہاں جانے کے لئے رضا مند نہیں تو اس کو چاہئے کہ اس مقدمہ کو کسی مسلمان حاکم عادل با اختیار کے یہاں پیش کرے اور وہ حاکم اس نکاح کو فسخ کر دے بغیر حاکم مسلم کے فسخ کئے فسخ نہ ہوگا اور جب فسخ کر دے تو وہ عورت دوسری جگہ نکاح کر سکتی ہے وان زوجها غير الاب والجد فلكل واحد منهما الخيار اذا بلغ ان شاء اقام على النكاح…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔