نامحرم وکیل یا گواہوں کا اجازت کے لئے لڑکی کے پاس جانا
سوال
مجموعه ادعیه ماثوره ۵۳ از مولانا ابرار الحق صاحب ہر دوئی میں تحریر ہے کہ نکاح کی اجازت لینے کے لئے وکیل اور اس کے گواہ کا محرم ہونا ضروری ہے اور گواہ اجازت کا درجہ استحباب کا ہے لہٰذا اگر گواہ محرم نہ ہوں تو اذن پر گواہ بنانا ترک کرنا ضروری ہے۔ کیا حقیقت میں لڑکی سے اجازت نکاح لینے کے لئے وکیل وگواہ کا محرم ہونا ضروری ہے اور اگر محرم گواہ نہ ہو تو لڑکی سے اجازت صرف محرم وکیل لے اور گواہ غیر محرم نہ بنائے۔ یہ حکم احتیاطی اور تقویٰ کے طور پر ہے یا بالکل ضروری اور لازم ہے۔
جواب
جب لڑکی بالغہ ہو اور اس کا ولی موجود ہو تو خود لڑکی سے اجازت لے لے یعنی اس سے کہدے کہ میں فلاں لڑکے سے اتنے مہر پر تمہارا نکاح کرتا ہوں تم کو منظور ہے۔ اس پر اگر لڑکی اجازت دیدے یا خاموش رہے تو بس اتنا کافی ہے اس کے لئے نہ گواہ کی ضرورت ہے نہ وکیل۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔