الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بلوغت کے ڈیڑھ سال بعد خیار بلوغ

سوال

(۱) کیا نابالغ لڑکی بالغ ہونے کے ڈیڑھ سال بعد اپنا نکاح فسخ کراسکتی ہے؟ لڑکا لڑکی کو بالغ ہونے سے پہلے طلاق دینے پر رضا مند تھا۔ اب طلاق نہیں دیتا نہ لڑکی کو بلاتا ہے۔ نکاح نابالغی کی حالت میں ہوا تھا۔ (۲) کیا اس لڑکی کا نکاح ثانی بعد طلاق فوراً چند دن بعد ہو سکتا ہے جب کہ شوہر کے گھر تک نہ گئی ہو۔

جواب

اگر باپ دادا کے علاوہ کسی اور نے اس کا نکاح کر دیا تھا تو بالغ ہوتے ہی فوراً اس نکاح کو نامنظور کر کے اور اس پر گواہ بنا کر موافق شرع حاکم مسلم سے فسخ کرانے کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔ اگر آثار بلوغ ظاہر ہوتے ہی فوراً نا منظور نہیں کیا بلکہ خاموشی اختیار کی تو اب ڈیڑھ سال بعد خیار بلوغ باقی نہیں رہا ہے اب اگر لڑکا رخصتی کرانا اور آباد کرانا نہیں چاہتا تو بہتر یہ ہے کہ لڑکی طلاق…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو