الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

عورت کی طرف سے اجازت نکاح کا سننا

سوال

ایک بالغہ عورت کا نکاح ایک وکیل دو شاہد کو لے کر ایک مولوی صاحب نے پڑھا دیا۔ نکاح کے بعد دو شاہدوں میں سے ایک سے پوچھا گیا کہ تم نے نکاح کے وقت عورت کے منہ سے اذن سنا ہے اس نے جواب دیا کہ میں نے عورت کے منہ سے کوئی لفظ اذن کا نہیں سنا۔ اس پر ایک عالم نے کہا کہ یہ نکاح شرعاً معتبر نہ ہوگا۔ اس پر ایک شادی شدہ شخص نے اس عالم کو گالیاں دیں۔ اب دریافت طلب امر یہ ہے کہ نکاح شرعاً معتبر ہوگا یا نہیں؟ جس شخص نے عالم صاحب کو گالی دی اس پر شرعاً کیا حکم وارد ہوتا ہے؟

جواب

اگر نکاح کا ایجاب وقبول گواہوں کے سامنے ہوا اور عورت نے اس کو نامنظور نہیں کیا تو یہ نکاح صحیح ہو گیا اگر چہ وکیل کے دریافت کرنے پر گواہوں نے عورت سے اجازت کو نہ سنا ہو۔ وہ اجازت کے گواہ ہیں ایجاب وقبول کے گواہ نہیں۔ عورت کی طرف سے جس نے (قاضی نے) ایجاب کیا اور مرد نے اس کو قبول کیا، اس کو تو سننے والے موجود ہیں۔ بس یہ کافی ہے۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو