الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

بیوہ کا نکاح بلا اذن صریح

سوال

عام طور پر بیوہ بالغہ سے نکاح کی اجازت باللسان لینے کا دستور نہیں ہے اکثر بیوہ کی سسرال والے یعنی جیٹھ سسر وغیرہ سمجھتے ہیں کہ ہمارا حق ہے چاہے جہاں اس کا نکاح کریں یا بیٹھا رہنے دیں۔ چنانچہ زبانی پوچھنا تو کیا اس سے ذکر تک نہیں کیا جاتا، دیور، جیٹھ وغیرہ اپنی اجازت سے نکاح پڑھا دیتے ہیں اکثر بیوہ کا دل اس جگہ نہیں چاہتا مگر انکار کی صراحت نہ ہونے کے باعث دل کی ناراضگی کے ساتھ شوہر کے یہاں رخصت کر دینے پر چلی جاتی ہے۔

جواب

بالغہ عورت پر کسی کو ولایت اجبار حاصل نہیں تھی یعنی کوئی شرعی ولی باپ بھائی وغیرہ جبراً بغیر اس کی مرضی کے نکاح نہیں کر سکتا۔ چہ جائیکہ جیٹھ۔ اگر کر دے تو اس کی اجازت پر موقوف رہے گا۔ بیوہ کے نکاح کے لئے بھی اس کی رضامندی ضروری ہے خواہ زبان سے رضا مندی کا اظہار کرے خواہ کوئی اور فعل ایسا کرے جس سے اس کی رضا مندی ظاہر ہو جائے مثلاً مہر کا مطالبہ کرے یا قبضہ کرے یا نفقہ کا…

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو