نابالغہ کا جبر ا نکاح اور خیار بلوغ کی تفصیل
سوال
ہندہ کا نکاح نابالغہ ہونے کی حالت میں ایسی صورت میں کیا گیا کہ اس کے ولی شرعی ناراض تھے۔ ہندہ کی خالہ نے ہندہ کا نکاح بلا اس کی مرضی کے جبراً کر دیا لیکن ہندہ برابر انکار ہی کرتی رہی۔ جب رخصتی کا وقت آیا تو اس وقت بھی ہندہ نے انکار کر دیا اور ناراضگی کی وجہ سے اس کی رخصتی ملتوی کر دی گئی۔ چنانچہ ہندہ آج تک یعنی عرصہ تقریباً چھ سال کا ہو چکا اور اس شخص کے یہاں جانے سے انکار کرتی ہے۔ عرصہ چھ سال سے وہ لوگ جہاں ہندہ کا نکاح ہوا تھا ہندہ کے طالب ہیں۔
جواب
اگر وقت نکاح والدہ نے اس کو منظور نہیں کیا بلکہ نا منظور کر دیا تھا تو یہ نکاح اس وقت ختم ہو گیا تھا۔ اگر والدہ خاموش رہی اور لڑکی نے بالغہ ہونے پر اس کو نا منظور کر دیا تب بھی بیکار ہو گیا۔ اب لڑکی کی اجازت سے دوسری جگہ نکاح کر دیا جائے۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔