نکاح کی اجازت تحریراً کا شوہر مدعی ہے عورت منکر تو کیا حکم ہے؟
سوال
ایک شخص کہتا ہے کہ مجھے فلاں عورت نے اجازت دی ہے کہ تم جا کر مجھ سے نکاح کرلو۔ اور میں نے جا کر دو گواہوں کے سامنے نکاح کر لیا۔ نیز کہتا ہے کہ اس نے مجھے اجازت کی تحریر دی ہے اور دستخط بھی کر دیتے ہیں۔ مگر عورت ہر چیز سے انکار کرتی ہے کہ میں نے نہ اسے زبانی نکاح کرنے کی اجازت دی ہے اور نہ ہی کوئی تحریر لکھ کر کے دی ہے، یہ شخص جھوٹا ہے۔ دریافت طلب یہ ہے کہ اس صورت میں کس کا قول معتبر ہوگا؟
جواب
اگر اس شخص کے پاس گواہ موجود ہیں اور وہ شرعاً مقبول الشہادۃ ہیں، جن کے سامنے عورت نے زبانی اجازت دی ہے یا تحریر لکھی ہے تب تو ان کی گواہی معتبر ہے اور نکاح صحیح ہے۔ اگر گواہ موجود نہیں یا وہ مقبول الشہادۃ نہیں تو عورت کا قول معتبر ہوگا مگر قسم کے ساتھ اور یہ نکاح معتبر نہیں ہوگا۔
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔