الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

لڑکی کے انکار کے باوجود اس کا نکاح پڑھ دینا

سوال

ایک لڑکی جس کی شادی ہو چکی ہے اس کی عمر ۲۲ سال ہے وہ اپنے ماں باپ کے یہاں تھی جب کہ اس کا شوہر انتقال کر گیا۔ اس اطلاع کے ملنے پر وہ سسرال آئی، جہاں پر اس نے اپنے شوہر کی مہر بخشی اور عدت کے دن پورے کئے۔ عدت پوری ہونے کے بعد اس لڑکی کو اس کے ایک دیور جس کی عمر ۱۶ سال ہے اور وہ شادی شدہ ہے نکاح کرنے پر مجبور کیا لیکن اس نے صاف انکار کر دیا۔ مجبور کرنے والے لڑکی کے سسرال والے ہی تھے۔ لڑکی کا منشاء شوہر کے چا زاد بھائی سے نکاح کرنے کا تھا۔

جواب

جس بالغ لڑکی کی شادی ہوگئی، شوہر کے ساتھ رہ چکی پھر بیوہ ہو گئی تو بعد عدت اس کے نکاح کے لئے اس کی اجازت ضروری ہے، بغیر اس کی اجازت کے اس کے نکاح کا کسی کو حق حاصل نہیں۔ اگر اجازت لی جائے تو اس کے جواب میں اس کا خاموش رہنا اجازت شمار نہیں ہوگا، یعنی اس کا ولی اس کا باپ اس سے پوچھے تب بھی خاموشی کافی نہیں۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو