صغیرہ کے لئے خیار بلوغ
سوال
زید نے ایک ہندہ عورت جس کے ساتھ اس کی شیر خوار لڑکی صفیہ تھی نکاح کیا اور صفیہ شیر خوار کی پرورش بھی کرتا رہا اور پھر بصورت نابالغی زید نے صفیہ کا نکاح بھی کر دیا زید صفیہ کے خاندان سے بھی نہیں بلکہ ہندہ اپنے آپ کو نو مسلم ظاہر کرتی ہے صفیہ نابالغہ کو بھی زید نے اس کے سسرال میں بھیجدیا۔ وہاں فتنہ وفساد ہوتا رہا۔
جواب
یہ نکاح فضولی کا ہے اس کا حکم یہ ہے کہ ولی شرعی کی اجازت پر موقوف ہے اگر اس لڑکی کا کوئی ولی عصبہ موجود نہیں تو اس کی ماں ولی ہے اگر ماں نے اجازت دیدی تو جائز ہو گیا اگر ماں نے اجازت نہیں دی بلکہ رد کر دیا تو رد ہو گیا اور اس صورت میں کسی طلاق یا تفریق کی ضرورت نہیں اور پہلی صورت میں یعنی جب کہ ماں نے اجازت دے دی ہو تو لڑکی کو خیار بلوغ حاصل تھا یعنی اگر بالغہ ہوتے ہی فوراً…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔