الإفتاء

Enter a topic or fatwa name

خطبہ اور نماز جمعہ میں فصل کی مقدار

سوال

(۱) اختتام خطبہ جمعہ اور افتتاح جماعت کے درمیان کسی مجبوری کے تحت یا بلا مجبوری پانچ دس منٹ ٹھہرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ نیز خطبہ اولی اور ثانیہ کے درمیان بزبان اردو اسی خطبہ کا ترجمہ یا اس سے متعلق کوئی تقریر وغیرہ کرنے کی اجازت ہے یا نہیں؟ جبکہ مقتدی اس کو اچھا سمجھتے ہوں، نیز خطبۂ علمی وغیرہ ہر ماہ کا خطبہ الگ الگ بالترتیب لکھا ہے۔ کیا اس طرح ترتیب سے پڑھنا افضل و بہتر ہے۔ نیز الوداع کے جمعہ کو الوداع کے خطبہ کے علاوہ کوئی دوسرا خطبہ پڑھ لے تو کیا افضل کے خلاف ہوگا۔

جواب

عبارت منقولہ سے معلوم ہوا کہ آخر خطبہ کے ساتھ ہی اقامت شروع کر دی جائے۔ اور امام منبر سے اتر کر جب مصلی پر پہونچے تو اقامت ختم ہو جائے۔ دنیاوی کام کی وجہ سے خطبہ اور اقامت میں فصل نہ ہو، نماز ہی سے متعلق کسی شئی کا فصل ہو جائے تو مضائقہ نہیں، فصل طویل ہو جائے تو خطبہ کا اعادہ کیا جائے مقدار طول رائے مبتلی بہ پر موقوف ہے جب کہ وہ صاحب الرائے ہو۔

ماخذ: فتاویٰ محمودیہ

خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔

موضوعات

اس باب میں مزید

زبانیں: English · Русский · العربية · Bosanski · Türkçe · Deutsch · বাংলা · اردو