خطبہ سے پہلے اردو میں وعظ
سوال
(۱) موجودہ زمانہ میں جمعہ کا عربی خطبہ غیر مفید اور اردو میں مفید ہونے کی وجہ سے عربی میں حمد و ثنا و شہادتین کے بعد اردو نظم و نثر میں خطبہ جائز ہے یا نہیں بصورت جواز مکروہ تحریمی ہے یا تنزیہی؟ اور اردو خطبہ بدعت سئیہ میں داخل ہے یا حسنہ میں مطابق مذہب احناف مسلک مفتی بہ سے جواب تحریر فرمائیں۔ (۲) ہدایہ میں ہے کہ وعلى هذا الخلاف الخطبة والتشهد سے جو جواز نکلتا ہے یہ مع الکراہت ہے یا بلا کراہت اور کراہت بھی کونسی؟ (۳) عربی خطبہ سنت مؤکدہ ہے یا سنن ہدی میں داخل ہے یا سنن زوائد و مستحبات میں؟ (۴)
جواب
(۱) تمام خطبہ خالص عربی میں ہونا چاہئے اردو میں پڑھنا یا اردو عربی میں پڑھنا بدعت سئیہ اور مکروہ تحریمی ہے یہی مفتی بہ ہے اور قابل عمل ہے اس کے خلاف کرنا مکروہ تحریمی ہے جو گناہ سے خالی نہیں البتہ اگر وقتی ضرورت کی رعایت سے کوئی خاص مسئلہ اثناء خطبہ میں اردو میں بیان کر دیا جائے تو کوئی مضائقہ نہیں جو وجہ خطبہ عربیہ کے غیر مفید ہونے کی آج بتائی جاتی ہے زمانہ صحابہ کرام رضی…
ماخذ: فتاویٰ محمودیہ
خلاصہ۔ مکمل متن جاوا اسکرپٹ فعال ہونے پر کھلتا ہے۔